صحت مند زندگی کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ رات بھر کی پرسکون اور اچھی نیند بھی بہت اہم ہے۔
نیند جسم اور دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، سوتے ہوئے ہمارا جسم خود کو دوبارہ فعال کر کے توانائی حاصل کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اچھی نیند دماغی صحت، جذباتی سکون اور جسمانی فٹنس کے لیے بہت ضروری ہے۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق بہتر نیند ہارمونز کے توازن کو سہارا دیتی ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے اور یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتی ہے۔
نیند کی کچھ عادات صحت کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہیں، جس میں غلط پوزیشن میں سونا بھی شامل ہے۔
خواتین میں طویل العمری کیلئے پٹھوں کی مضبوطی کتنی ضروری؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت اور مسلز حجم بڑھانے کے لیے جم جانا لازمی نہیں
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غلط پوزیشن میں سونے سے سکون کم ہو سکتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ کمر درد جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ پیٹ کے بل سونے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جس سے پٹھوں میں تناؤ اور اکڑن پیدا ہوتی ہے۔
کمر درد سے نجات کیلئے سونے کی سب سے بہترین پوزیشن کونسی ہے؟ پیٹھ کے بل سونا
ماہرین زیادہ تر پیٹھ کے بل سونے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ پیٹھ کے بل سونے سے جسم کا وزن یکساں طور پر تقسیم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دباؤ کم ہوتا ہے۔
کروٹ پر سونا
کروٹ پر سونا بھی فائدہ مند ہے اور اگر کروٹ پر سوتے ہوئے گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ لیا جائے تو جسم سیدھا رہتا ہے، کولہوں اور کمر کے نچلے حصے پر دباؤ کم آتا ہے۔
کچھ ماہرین ریڑھ کی ہڈی کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹانگوں کو جسم کی طرف تھوڑا سا موڑ کر سونے کا مشورہ بھی دیتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کو، جو کمر کے دائمی مسائل میں مبتلا ہیں۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ کر سونا
سوتے ہوئے گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے کمر کے نچلے حصے کو سہارا ملتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کی قدرتی شکل برقرار رہتی ہے۔
سوتے ہوئے مناسب گدے اور تکیے کا انتخاب
مناسب نیند کا انحصار گدے اور تکیے کے انتخاب پر بھی ہوتا ہے، ایک مناسب گدا جسم اور ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دیتا ہے، اس لیے بوسیدہ گدے کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔
تکیہ ایسا ہو جو گردن کو غیر فطری زاویے میں نہ رکھے۔ پتلے تکیے پیٹھ کے بل سونے والوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں، جب کہ موٹے تکیے کروٹ پر سونے کے لیے آرام دہ سمجھے جاتے ہیں۔
سونے اور جاگنے کا وقت
روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں، اس سے جسم کی قدرتی گھڑی(سرکیڈین ردھم) کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
سونے کیلئے پرسکون ماحول
نیند پر ماحول کا بھی اثر پڑتا ہے، ٹھنڈے، اندھیرے اور پرسکون کمرے میں گہری اور اچھی نیند آتی ہے۔
رات گئے اسنیکس کھانے کی عادت صحت کیلئے نقصان دہ
اس تحقیق میں 36 سے 75 سال کی عمر کے 39 ایسے افراد کو شامل کیا گیا
ماہرین صحت سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال محدود کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ ٹی وی، موبائل یا لیپ ٹاپ سے نکلنے والی نیلی روشنی نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین صحت سونے سے پہلے پرسکون سرگرمیاں جیسے پڑھنا، مراقبہ یا ہلکی پھلکی اسٹریچنگ کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ دن کے وقت جسمانی طور پر متحرک رہنے اور رات کو ہلکا کھانا کھانے سے بھی نیند کا معیار مزید بہتر ہوتا ہے۔
اچھی نیند کو یقینی بنانے کے لیے سونے کی پوزیشن پر توجہ دینے اور صحت مند عادات کو اپنانے سے کمر کے درد سے نجات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔